meet-the-dame-maker-mother-of-india 22

ملیے انڈیا کی ڈیم بنانے والی اماں سے

گذشتہ دس برسوں سے وہ دو سو سے زیادہ ‘چک ڈیم’ بنا چکی ہیں
امولا رویا کی صلاحیتوں پر شبہ کرنا درست نہیں ہو گا۔ کیونکہ وہ ممبئی کی رہائشی اکہتر سالہ دادی ہیں جو انڈیا کی خشک سالی کے خلاف جنگ میں صفِ اول پر ہیں۔
انڈیا میں ہر سال تیس کروڑ لوگ پانی کی شدید کمی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مون سون کی بارشوں میں کمی رہی ہے جس کے نتیجے میں حکومت دیہات اور فصلوں کو پانی ٹرینوں اور ٹینکروں کے ذریعے فراہم کرنے پر مجبور ہوئی۔
لوگ کنویں کے طویل فاصلے پر ہونے کی وجہ سے پانی کی کمی کا شکار ہو کر مرتے رہے ہیں۔
ان چک یا چھوٹے ڈیموں کی وجہ سے مقامی علاقے میں زیرِ زمین پانی کی سطح بلند ہو جاتی ہے جس سے کنووں میں پانی دوبارہ سے بھر جاتا ہے۔
انڈیا کی سب سے بڑی ریاست راجستھان ملک کا خشک ترین علاقہ ہے اور یہاں امولا رویا اور ان کی ‘آکر‘ نامی فلاحی تنظیم کام کرتی ہے۔
گذشتہ دس برسوں سے وہ دو سو سے زیادہ ‘چک ڈیم’ بنا چکی ہیں جن کی مدد سے 115 دیہات میں لوگوں کی زندگیوں اور روزگار میں تبدیلی آ چکی ہے جبکہ 193 دیہات اس سے بلاواسطہ طور پر فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
ایک قدیم نظام
ایسی جگہ تلاش کرنے میں جہاں پانی جمع کر کے اس سے ڈیم بنایا جا سکے یہ تنظیم مقامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔
نئے سرے سے ڈیم بنانے کے بجائے وہ پہاڑی علاقوں میں گہرائی اور مختلف ڈھلوانیں بنا کر پانی جمع کرتے ہیں۔
جب مون سون کا موسم آتا ہے تو یہ چیک ڈیم پانی سے بھر جاتے ہیں اور پانی کی زیرِ زمین سطح کو بہتر کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ کافی نیچے جا چکی ہوتی ہے۔
گاؤں کے قریب زیرِ زمین ایسی جگہیں جن میں پانی جمع ہوتا ہے اور کنویں پانی سے بھر جاتے ہیں
یہ چک ڈیم بہت سستے ہیں۔ بڑے ڈیموں اور پانی کے زخیروں کی نسبت ان کی وجہ سے انسانی آبادی کو بڑے پیمانے پر نقل مکانی نہیں کروانی پڑتی۔
امولا کا کہنا ہے کہ ’یہ کوئی نیا حل نہیں بلکہ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے سے ایسا کیا جاتا رہا ہے۔‘
چک ڈیموں کو مقامی زمینی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنایا جاتا ہے جس میں کم سے کم تعمیری کام درکار ہوتا ہے۔
آکر ٹرسٹ کے انجینیئر ڈرگ پال سنگھا نے کہا کہ “جو ڈھانچہ ہم بناتے ہیں اس میں صرف ایک کنکریٹ کی دیوار بیچ میں ہوتی ہے تو جب پانی کی سطح بلند ہوتی ہے تو یہ آسانی سے دوسری جانب بہہ جاتا ہے۔ دوسری دیواریں مٹی کے بند سے بنائی جاتی ہیں اور اس کے نیچے صرف مٹی ہوتی ہے جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ صرف مٹی ہے۔’
انھوں نے کہا کہ ’جب ڈیم بھر جاتا ہے تو پانی خود بخود مٹی میں سرایت کرتا ہے اور پانی کی زیرِ زمین سطح کو دوبارہ سے بھر دیتا ہے اور آس پاس کے تمام کنووں میں پانی کی سطح بلند ہو جاتی ہے۔‘
یہ ڈیم بنانے کے لیے امولا مقامی آبادی کی مدد حاصل کرتی ہیں۔
اعتماد سازی
ٹرسٹ علاقے کے لوگوں سے ہر منصوبے کے لیے 40 فیصد وسائل مانگتا ہے اور ساٹھ فیصد وسائل خود فراہم کرتا ہے۔
ان چک ڈیموں کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے اس لیے کمیونٹی کی جانب سے اس میں شمولیت بہت اہم ہوتی ہے۔ گاؤں والے اور کسان اس کی ملکیت لیتے ہیں تو جب ٹرسٹ اپنا کام مکمل کر لیتا ہے تو مقامی کسان اس کا انتظام سنبھال لیتے ہیں اور فوائد باقی رہتے ہیں۔
امولا نے اپنے منصوبے کے آغاز کے بارے میں بتایا کہ ’گاؤں کے لوگ ہماری بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہمارے کوئی درپردہ عزائم ہیں۔‘
ٹرسٹ کا دعویٰ ہے اس منصوبے کے لوگوں کی زندگیوں پر بہت ڈرامائی اثرات ہوئے ہیں۔
امولا کہتی ہیں کہ مقامی لڑکیاں سکول جانے کے بجائے پانی لانے میں مدد کرنے میں مصروف تھیں۔
جہاں ایک وقت میں لوگ ٹینکروں کے ذریعے پانی ڈھوتے تھے وہاں اب کسان سال میں تین فصلیں اور اپنے مویشی پال رہے ہیں۔
امولا کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے نتیجے میں بچیاں سکول جانے کے قابل ہوئیں ورنہ اس سے قبل وہ گھر پر اپنی ماؤں کا انتظار کرتی تھیں جب وہ پانی کے حصول کے لیے طویل فاصلہ طے کر رہی ہوتی تھیں۔
ہر سال ’آکر‘ فلاحی تنظیم مقامی آبادیوں کے ساتھ ملک کر اوسطاً تیس ڈیم تعمیر کرتی ہے مگر امولا اسے بڑھا کر سالانہ نوے ڈیموں تک لے جانا چاہتی ہیں۔ وہ اس بارے میں دنیا بھر تک اپنا پیغام پہنچانے کی خواہشمند ہیں۔
مگر مقامی سماجی کارکن پرافل کادم کا کہنا ہے کہ یہ ہر ایک کے لیے مناسب حل نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ چک ڈیم مقامی آبادیوں کے لیے بہت فائدہ مند ہیں اور مستقبل میں یہ موسمی فصلوں کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ مگر اس کی کچھ حدود بھی ہیں یہ تمام انڈیا کے لیے مناسب نہیں ہے کیونکہ انڈیا میں جغرافیہ مختلف ہے۔‘
امولا اس بات سے خوفزدہ نہیں ہیں اور کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنے شوہر کو ایک بار بتایا کہ میں اپنے چک ڈیم کی دیکھ بھال نوے برس کی ہونے کے بعد بھی کرتی رہوں گی۔ تو ان کے شوہر نے پوچھا اس کے اگلے تیس برس کیا کرو گی؟‘
کیا تم 120 برس کی عمر تک کام کرتی رہو گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں